تابع داری

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - اطاعت، فرمانبرداری، پابندی۔ "مجھ سے ایسی تابع داری نہ ہو سکے گی، جس گھر میں زندگی بھر حکومت کی، اسی میں بڑھاپے میں لونڈی بن کے رہوں۔"      ( ١٩١٤ء، حسن کا ڈاکو، ٤٩:١ )

اشتقاق

عربی زبان کے لفظ 'تابع' کے ساتھ فارسی زبان سے مصدر 'داشتن' سے فعل امر 'دار' بطور لاحقۂ فاعلی لگایا اور آخر پر 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگائی گئی اردو میں سب سے پہلے ١٨٦٢ء کو "نصیحت کا کرن پھول" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - اطاعت، فرمانبرداری، پابندی۔ "مجھ سے ایسی تابع داری نہ ہو سکے گی، جس گھر میں زندگی بھر حکومت کی، اسی میں بڑھاپے میں لونڈی بن کے رہوں۔"      ( ١٩١٤ء، حسن کا ڈاکو، ٤٩:١ )

جنس: مؤنث